مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے کہا ہے کہ یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آیزنکوت نے مجوزہ حکومتی اتحاد میں شمولیت کے خواہش مند فریقوں کے لیے چار بنیادی شرائط مقرر کی ہیں۔
آیزنکوت نے کہا ہے کہ کنست کا ہر رکن جو ان اصولوں کو قبول کرنے پر آمادہ ہو، مستقبل کی کابینہ کی تشکیل میں ان کا ممکنہ اتحادی بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آیزنکوت نے کابینہ تشکیل دینے کے امکانات محدود ہونے کے باوجود یہ دعوی کیا ہے کہ ان کی مجوزہ کابینہ کے دروازے ہر اس پارلیمانی رکن کے لیے کھلے ہوں گے جو چار بنیادی اصولوں کو تسلیم کرے گا۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق آیزنکوت کی جانب سے ممکنہ اتحادیوں کے لیے مقرر کردہ چار شرائط درج ذیل ہیں:
1۔ اسرائیل کو ایک یہودی، جمہوری، لبرل اور مساوات پر مبنی ریاست تسلیم کرنا۔
2۔ نام نہاد اعلان آزادی میں درج اصولوں اور اقدار کی پابندی کرنا۔
3۔ اسرائیل کے تمام شہریوں کے لیے فوجی، قومی یا سول سروس لازمی قرار دینا۔
4۔ حماس کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنا اور غزہ کی پٹی میں اس کی فوجی صلاحیتوں اور حکومتی اقتدار کے خاتمے کی ضرورت کو قبول کرنا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آیزنکوت کی جانب سے عائد کردہ ان شرائط کے پیش نظر فلسطینی اور عرب جماعتیں اسرائیلی کابینہ میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر نہیں کریں گی۔
واضح رہے کہ ان جماعتوں نے پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔
آپ کا تبصرہ